ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پٹنہ: بی جے پی کے احتجاجی مارچ میں ہنگامہ، حالات بے قابو ہوتا دیکھ پولیس نے کیا لاٹھی چارج، ایک لیڈر کی موت

پٹنہ: بی جے پی کے احتجاجی مارچ میں ہنگامہ، حالات بے قابو ہوتا دیکھ پولیس نے کیا لاٹھی چارج، ایک لیڈر کی موت

Fri, 14 Jul 2023 09:33:48    S.O. News Service

پٹنہ،14/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی) بہار میں بی جے پی لیڈروں نے آج اسمبلی میں ہنگامہ کے بعد واک آؤٹ کر دیا اور پھر سینکڑوں کارکنوں کے ساتھ گاندھی اسٹیچو سے پٹنہ کی سڑکوں پر احتجاجی مارچ شروع کر دیا۔ اس دوران ڈاک بنگلہ چوراہا پر جب مارچ کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو بی جے پی کارکن مشتعل ہو گئے اور پولیس سے نبرد آزما ہو گئے۔ اس دوران انھیں قابو کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور پھر لاٹھی چارج کرکے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

اس ہنگامہ کے درمیان ایک بی جے پی لیڈر کی موت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ مہلوک بی جے پی لیڈر کا نام وجئے کمار سنگھ بتایا جا رہا ہے جو جہان آباد سٹی میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری تھے۔ بی جے پی میڈیا انچارج راکیش کمار سنگھ نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وجئے سنگھ پولیس لاٹھی چارج میں زخمی ہو گئے تھے۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بی جے پی نے جمعرات کو مختلف ایشوز کو لے کر پٹنہ میں اسمبلی مارچ کا انعقاد کیا۔ اس دوران مارچ میں شامل لیڈروں و کارکن جیسے ہی ڈاک بنگلہ کے نزدیک پہنچے، پولیس نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو وہ مشتعل ہو گئے۔ اس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں ڈاک بنگلہ چوراہے پر ہنگامہ خیز حالات پیدا ہو گئے۔ اس دوران کئی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو چوٹیں پہنچیں۔ صحافی طبقہ بھی اس ہنگامہ اور لاٹھی چارج سے بچ نہیں سکا۔ پھر ایک بی جے پی لیڈر کی موت کی اطلاع ملی جس سے ماحول مزید گرم ہو گیا۔

بی جے پی لیڈر کی موت معاملے میں بی جے پی صدر جے پی نڈا نے نتیش حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ بی جے پی کارکنوں پر پٹنہ میں ہوئی لاٹھی چارج ریاستی حکومت کی ناکامیوں اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ مہاگٹھ بندھن کی حکومت بدعنوانی کے قلعے کو بچانے کیلئے جمہوریت پر حملہ کر رہی ہے۔ جس شخص کے خلاف چارج شیٹ داخل ہوئی ہے، اس کو بچانے کیلئے بہار کے وزیر اعلیٰ اپنی اخلاقیات تک بھول گئے ہیں۔

دوسری طرف اس حادثہ پر بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری نے کہا کہ نتیش کمار کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ بی جے پی پرامن مظاہرہ کر رہی تھی، کہیں کوئی اشتعال انگیزی نہیں کی گئی۔ انھوں نے سوال کیا کہ جب پرامن مظاہرہ تھا تو لاٹھیاں کیوں چلائی گئیں؟ سمراٹ چودھری سمیت بی جے پی کے دیگر لیڈرس بھلے ہی پولیس لاٹھی چارج سے اپنے لیڈر کی موت ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ بی جے پی لیڈر کی موت پولیس کی لاٹھی لگنے سے ہوئی ہے یا بھیڑ اور ہنگامہ کے سبب ہارٹ اٹیک آنے سے ہوئی ہے۔


Share: